22 Nov, 2017 | 3 Rabiul Awal, 1439 AH

AoA. Zani insan agr sidq e dil sy tauba kar ly tou kya uskey gunah maaf ho skty hai?

زانی انسان اگر صدق دل سے توبہ کرلے تو کیا اس کا گناہ معاف ہوجاتاہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

جب آدمی سچے دل سے توبہ  کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ  بھی اس کی توبہ کو قبول فرمالیتے ہیں، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں،  چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى.

‘‘اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھے راستے پر قائم رہے تو میں اس کے لیے بہت بخشنے والا ہوں’’۔

 یعنی جو بھی میرے حضور توبہ کرے تو میں اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہوں، خواہ اس نے کیسا ہی گناہ کیا ہو۔

 سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کی، فرمایا :  ایک بندہ گناہ کر بیٹھا تو اس نے کہا، اے اللہ! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (میرے) بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے جان لیا کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے، اس آدمی نے پھر گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے مالک! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے ایک گناہ کیا اور اس نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے۔ اس آدمی نے پھر گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے پالنے والے! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اس نے جان لیا کہ اس کا ایک اللہ ہے، جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے، تو اے بندے ! اب تو جو چاہے عمل کر، میں نے تجھے بخش دیا۔  ( مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب )

  واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۶؍شعبان المعظم؍۱۴۳۸ھ

۱۳؍مئی؍۲۰۱۷ء