17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Assalam o alikum, mera sawal ye hai k sadqa kin ko dena chaheyay? aur specially is baat ka bhi zaroor sath bata dijiye ga k kahan nahi dena chaheyay aur kis jagah ehtiyaat ki zarort hai. JazakAllah!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

میرا سوال یہ ہے کہ صدقہ کن لوگوں کو دینا چاہیے، اور اس کے ساتھ یہ بھی ضرور بتادیجیے کہ کن لوگوں کو نہیں دینا چاہیے، اور کس جگہ احتیاط کی ضرورت ہے؟ جزاک اللہ

الجواب حامدا ومصلیا

صدقہ  دوطرح کا ہوتا ہے: واجب صدقہ، اور نفل صدقہ۔

واجب صدقہ: یہ شریعت کی جانب سے مقرر   ہوتاہے۔   یہ درج ذیل لوگوں کو دیناجائز نہیں:

1-   اپنے اصول(والدین، دادا  وغیرہ)۔

2-   اپنے فروع (اپنی اولاد اور اسی طرح اولاد کی اولاد)۔

3-    میاں ، بیوی، ایک دوسری کو نہیں دے سکتے۔

4-   سید خواہ غریب ہو یا مالدار۔

5-  مالدار، یعنی جس کے پاس  کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ،یا اس کی قیمت کے بقدرسونا، یا نقدی،یا سامانِ تجارت  یا  ضرورت سے زائد سامان  ہو، اس کو دینابھی جائز نہیں ۔

6-   کافر   

واجب صدقہ مذکورہ بالاافراد کے علاوہ   کسی انسان کو مالک  بنا کر دینا ضروری ہے۔

نفل صدقہ، یہ وہ صدقہ ہے جو بندے اپنی مرضی  سے کوئی چیز صدقہ کردے، شریعت کی جانب سے یہ صدقہ  مقرر نہیں ہوتا۔ نفل صدقہ ہر کسی کو دے سکتے ہیں،  فقیر کو بھی اور امیر کو بھی ، لیکن فقیر محتاج  کو دینا بہتر ہے۔

الدر المختار - (2 / 339)

هو فقير وهو من له أدنى شيء ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ( ومسكين ..... ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر ... ( لا ) يصرف ( إلى بناء ) نحو ( مسجد و ) لا إلى ( كفن ميت وقضاء دينه ) و ) لا إلى (من بينهما ولاد ) ولو مملوكا لفقير ( أو ) بينهما ( زوجية ) ( و ) لا إلى ( غني ) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان ( و ) لا إلى ( بني هاشم ) ( ولا ) تدفع ( إلى ذمي ) لحديث معاذ.

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۸؍ذیقعدہ؍۱۴۳۷ھ

۳۱؍اگست ؍۲۰۱۶ء