17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

السلام علیکم! کیا کھڑے ہو کر وضو کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ آج کل گھروں میں واش ویشن ہوتا ہے؟ اور مزید بتائے کہ وضو کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے؟ نیز یہ بھی بتائے میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ جب فرض نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس وقت فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں۔ تو مجھے یہ جاننا ہے کہ اگر میں چار رکعات، یا دو رکعت والی سنت مؤکدہ پڑھ رہا ہوں اور امام نماز کے لئے کھڑا ہو جائے تو میں کیا کروں؟ تفصیل میں جواب دئے۔ جزاک اللہ

السلام علیکم!

1-    کیا کھڑے ہو کر وضو کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ آج کل گھروں میں واش ویشن ہوتا ہے؟

2-    اور مزید بتائے کہ وضو کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے(کہ بیٹھ کر ہوناچاہیے یا  کھڑے ہوکر)؟

3-  نیز یہ بھی بتائے میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ جب فرض نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس وقت فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں۔ تو مجھے یہ جاننا ہے کہ اگر میں چار رکعات، یا دو رکعت والی سنت مؤکدہ پڑھ رہا ہوں اور امام نماز کے لئے کھڑا ہو جائے تو میں کیا کروں؟ تفصیل میں جواب دئے۔ جزاک اللہ۔

الجواب حامدا ومصلیا

1-  اگر بیٹھ کر وضو کرنے کی جگہ موجود ہو تو  بیٹھ ہی وضو کرنا چاہیے۔ اور اگر بیٹھنے جگہ نہ ہو تو تو کھڑے ہوکر وضو کرسکتے ہیں۔ استعمال شدہ پانی  کی چھینٹوں سے بچناچاہیے۔

2-   بیٹھ کر وضو کرنا مستحب ہے۔

3-  اگر  کوئی شخص چار رکعات، یا دو رکعت والی سنت مؤکدہ  شروع کرچکا ہو اور فرض نماز کے لیے جماعت  کھڑی ہوجائے، تو وہ  ان سنتوں کو  جلدی سے پورا کر کے جماعت کے ساتھ شریک ہوجائے۔

فی الدر المختار (1/ 127)

( والجلوس في مكان مرتفع ) تحرزا عن الماء المستعمل  وعبارة الكمال وحفظ ثيابه من التقاطر وهي أشمل.

وفی الدر المختار (2/ 53)

والشارع في نفل لا يقطع مطلقا ) ويتمه ركعتين ( وكذا سنة الظهر و ) سنة ( الجمعة إذا أقيمت أو خطب الإمام ) يتمها أربعا ( على ) القول ( الراجح ) لأنها صلاة واحدة وليس القطع للإكمال، بل للإبطال.

وفی البحر الرائق (2/ 76)

 واختلفوا في السنة قبل الظهر أو الجمعة إذا أقيمت أو خطب الإمام فالصحيح أنه يتمها أربعا.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍ربیع الثانی؍۱۴۳۸ھ

۲۹؍جنوری ؍۲۰۱۷ء