16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

Assalam I Alaikom Mufti Sahab... Aik larki kay sur kay baalon ko zindagi may aik dafa be na shave kya gya ho, tho baligh honay per oss ka kya hokum hay? kya oska shave kerna zarori hay?

مفتی صاحب !

اگر لڑکی کے  سر کے بالوں کو زندگی )نابالغ ہونے کی حالت میں )ایک بار بھی صاف   (shave) نہ کیے گئے ہوں، تو بالغ ہونے کے بعد اس کا کیا حکم ہے؟ کیا صاف کرنا ضروری ہے؟ 

تنقیح: یہ بال صاف کرنے سے  آپ کیا مفہوم مراد لے رہے ہیں۔

جواب تنقیح: مطلب یہ  ہے کہ عقیقہ نہیں کیا گیا بالغ ہونے کے بعد  اگر وہ اپنا عقیقہ نہ کرے تو کیا حکم ہے۔

الجواب حامد اومصلیا

       عقیقہ شرعاً مستحب  ہے، فرض اور واجب نہیں ۔ اگر کسی  کا نہیں ہوا  تو کوئی مضائقہ  نہیں۔  بالغ ہونے کے بعد عقیقہ  کرنے کی ضرورت نہیں، اور نہ عقیقہ کے لیے اس کے بال  اتارنا چاہیے۔ (کذا فی آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/ ۴۷۹ )

واللہ اعلم بالصواب 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۲۴؍اپریل؍۲۰۱۷ء