21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

Asalam O alykum. Imam Sahab, I need to ask about the right of pocket money that a husband must give to his wife.What is sharai hukam? Kindly guide in detail.

السلام علیکم!

مجھے یہ پوچھنا تھا کہ  آپ مجھے وہ مقدار بتائیں جو  بیوی کا حق ہوتا ہے اپنے شوہر  پر جیب خرچ کے طو، جسے دینا شوہر کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے، تفصیل سے بتلائیں۔

الجواب حامدا ومصلیا

بیوی کا نان نفقہ( روٹی ، کپڑا)  شوہر کے ذمہ واجب ہے، عورت چاہے کتنی مالدار ہو، مگر خرچ مرد ہی کے ذمہ ہے اور رہنے کے لیے رہائش کا انتظام کرنا بھی شوہر کے ذمہ ہے۔نان نفقہ (روٹی،  کپڑا)مقدار کے تعین کے بارے میں اصول یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں کی حیثیت کا لحاظ رکھتے ہوئے مقرر کیاجائے ۔ اگر دونوں مالدار ہوں تو مالداروں والاخرچہ ملےگا، اور اگر دونوں غریب ہوں  تو غریبوں کی طرح کا اور اگر مرد غریب اور عورت مالدار ہو، یا عورت غریب اور مرد مالدار ہو، تو ایسا خرچ دے جو مالداروں سے کم ہو اور غریبوں سے زیادہ ہو۔

بیوی کو جیب خرچ دینے کا حکم  یہ ہے کہ شوہر پربیوی کانسان نفقہ  اور سُکنیٰ (رہائش) شرعاً واجب ہے،بیوی کو جیب خرچ دینا شوہر پر واجب نہیں، البتہ شوہر اگر خوشی سے اپنی حیثیت کے مبابق بیوی کو جیب خرچ دینا چاہے تو دےدے، تاکہ وہ اپنے مرضی سے جہاں چاہے، خرچ کرسکے۔

فی الدر المختار :( 3 / 574)

باب النفقة  هي لغة ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا ( هي الطعام والكسوة والسكنى ) وعرفا هي الطعام ( ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة زوجية وقرابة وملك ... ( فتجب للزوجة ) بنكاح صحيح فلو بان فساده أو بطلاقه رجع بما أخذته من النفقة ، بحر. ( على زوجها ) لأنها جزاء الاحتباس وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته ... (ولو ) كانت (مسلمة أو كافرة أو...  ( فقيرة أو غنيةفتستحق النفقة ( بقدر حالهما ) به يفتى. 

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ