21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

Asalamualikum rabiul awal ka mahena ma 12 rabiul awal ko log khanay or dagay nabi phb ka name ki pakwa kar taqsim karta hay ,is ka baray ma kia hukam ha ?agr kui hamaray ghar baj day tu hamaray lia kia hukam ha?ham wo khana lay ya nahe ?kha ka bara ma kia hukam ha?

السلام علیکم:ربیع الاول کے مہینے میں ۱۲ ربیع الاول کو لوگ کھانے اور دیگیں نبی ﷺ کے نام کی پکوا کر تقسیم کرتے ہیں ،ا س کے بارے میں کیا حکم ہے ؟اگر کوئی ہمارے گھر بھیج دے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟ہم وہ کھانا لیں یا نہیں؟کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ بات یاد رکھیں کہ صدقہ خیرات کرنا بہت بڑے اجروثوا ب کاکام ہے،لیکن یہ اس وقت مفید ہوگا جب ان اوصاف کے ساتھ کیا جائے جو شریعت میں ثابت ہیں،چنانچہ صدقہ خیرات کےلیے شریعت میں کسی خاص وقت یادن کی کوئی تعیین نہیں،اس میں کسی خاص چیز یا خاص وقت کاالتزام کرنا اور نہ کرنے والوں کوبراسمجھنا اوران پرنکیرکرنا درست نہیں،لہذا12 ربیع الاول  کے دن کھانے اور دیگیں وغیرہ پکا نے اور کھلانے کا کوئی ثبوت صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور سلف صالحین میں نہیں ملتا،اگر یہ کوئی نیک کام ہوتاتووہ حضرات یہ کام ضرور کرتے، معلوم ہوا کہ یہ کام بے اصل  ہےجس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں،لہذا اگر کوئی شخص  ربیع الاول کے مہینے میں دیگیں اور کھانے  پکانے اور کھلانے کوشرعا ضروری سمجھتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ خاص اس مہینے میں ایسا کرنا ثواب ہوگا یا زیادہ ثواب ہوگاباقی مہینوں میں نہ ہوگا،تو یہ بدعت ہے،اس سے بچنا لازم ہے،اگر کوئی اس طرح کاکھاناگھر میں بھیج دےیا کھانے کے لیے دے  تواسے قبول نہ کرے واپس کردے،اور جو شخص ایسا سمجھ کر یہ کام نہیں کرتا تو اس کے لیے یہ کام اگر چہ فی نفسہ بدعت نہیں،لیکن عوام میں چونکہ بدعات کا رواج ہے اور وہ غلط عقیدے کی وجہ سے ایسا کرنے لگتے ہیں اس لیے صحیح العقیدہ شخص کو بھی ۱۲ ربیع الاول کے دن  اس طرح کے کھانے پکوانے اور تقسیم کرنے سے پرہیز  کرنا لازم ہے اور اس کے کھانے سے بھی بچنا ضروری ہے۔

واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلى الناس بذلك ولا سيما في هذه الأعصار۔"   (الشامیۃ:2/439)

وَ أَمَّا النَّذْرُ الَّذِي يُنْذِرُهُ أَكْثَرُ الْعَوَامّ عَلَى مَا هُوَ مُشَاهَدٌ كَأَنْ يَكُونَ لِإِنْسَانٍ غَائِبٌ أَوْ مَرِيضٌ ، أَوْ لَهُ حَاجَةٌ ضَرُورِيَّةٌ فَيَأْتِي بَعْضَ الصُّلَحَاءِ فَيَجْعَلُ سُتْرَةً عَلَى رَأْسِهِ فَيَقُولُ يَا سَيِّدِي فُلَانٌ إنْ رُدَّ غَائِبِي ، أَوْ عُوفِيَ مَرِيضِي أَوْ قُضِيَتْ حَاجَتِي فَلَكَ مِنْ الذَّهَبِ كَذَا ، أَوْ مِنْ الْفِضَّةِ كَذَا ، أَوْ مِنْ الطَّعَامِ كَذَا ، أَوْ مِنْ الْمَاءِ كَذَا ، أَوْ مِنْ الشَّمْعِ كَذَا ، أَوْ مِنْ الزَّيْتِ كَذَا فَهَذَا النَّذْرُ بَاطِلٌ بِالْإِجْمَاعِ لِوُجُوهٍ مِنْهَا أَنَّهُ نَذْرُ مَخْلُوقٍ وَالنَّذْرُ لِلْمَخْلُوقِ لَا يَجُوزُ ؛ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ وَالْعِبَادَةُ لَا تَكُونُ لِلْمَخْلُوقِ وَمِنْهَا أَنَّ الْمَنْذُورَ لَهُ مَيِّتٌ وَالْمَيِّتُ لَا يَمْلِكُ وَمِنْهَا إنْ ظَنَّ أَنَّ الْمَيِّتَ يَتَصَرَّفُ فِي الْأُمُورِ دُونَ اللَّهِ تَعَالَى وَاعْتِقَادُهُ ذَلِكَ كُفْرٌ۔"                                          (البحر الرائق:6/289)

‘‘وامااھل السنۃ والجماعۃ فیقولون فی کل فعل وقول لم یثبت عن الصحابۃ: ھوبدعۃ لانہ لوکان خیرالسبقونا الیہ لانھم لم یترکوا خصلۃ من خصال الخیر الاوقد بادروا الیھا۔’’(تفسیرابن کثیر:۲۷۸/۷)

               الجواب صحیح                                                          واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب

              عبد الوہاب عفی عنہ                                                    عبد الرحمان

              عبد النصیر عفی عنہ                                                   معہدالفقیر الاسلامی جھنگ

              معہد الفقیر الاسلامی جھنگ                                          ۱۴۳۳/۳/۵ھ