21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اللّٰه کو کسنے دیکھا ہے؟ کیا پیارے نبی نے دیکھا ہے؟ قرآن اور حدیث سے حوالہ بھی دئے۔ یہ سوال مجھ سے ایک قریبی نے پوچھا ہے۔ اور اللّٰه کو کسنے دیکھنے کی کوشش کی تھی؟ قرآن اور حدیث میں اسکا ذکر ہے؟


السلام علیکم!

1-  میرا سوال یہ ہے کہ اللّٰه کو کس نے دیکھا ہے؟ کیا پیارے نبی نے دیکھا ہے؟ قرآن اور حدیث سے حوالہ بھی دئے۔ یہ سوال مجھ سے ایک قریبی نے پوچھا ہے۔

2-   اور اللّٰه کو کسنے دیکھنے کی کوشش کی تھی؟ قرآن اور حدیث میں اسکا ذکر ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

1-   تمام صحابہ و تابعین اور جمہور امت اس پر متفق ہیں کہ آخرت میں اہل جنت و عام مومنین حق تعالیٰ کی زیارت کریں گے ، جیسا کہ یہ بات صحیح حدیث سے ثابت ہے، البتہ عام دنیا میں انسانی نگاہ میں اتنی قوت نہیں جو اس کو برداشت کرسکے اس لئے دنیا میں کسی کو رویت و زیارت حق تعالیٰ کی نہیں ہو سکتی ، آخرت کے معاملہ میں خود قرآن کریم کا ارشاد ہے : "فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ"

 یعنی آخرت میں انسان کی نگاہ تیز اور قوی کر دی جائے گی اور پردے ہٹا دیئے جائیں گے،

حضرت امام مالک نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس کی نگاہ فانی ہے اور اللہ تعالیٰ باقی ، پھر جب آخرت میں انسان کو غیر فانی نگاہ عطا کر دی جائے گی تو حق تعالیٰ کی رویت میں کوئی مانع نہ رہے گا ، تقریباً یہی مضمون قاضی عیاض سے بھی منقول ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس کی تقریباً تصریح ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

 واعلموا انکم لن تروا ربکم حتی تموتوا (فتح الباری ، ص 493 ج 8)

 اس سے امکان تو اس کا بھی نکل آیا کہ عالم دنیا میں بھی کسی وقت خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں وہ قوت بخش دی جائے جس سے وہ حق تعالیٰ کی زیارت کر سکیں ، لیکن اس عالم سے باہر نکل کر جبکہ شب معراج میں آپ کو آسمانوں اور جنت و دوزخ اور اللہ تعالیٰ کی خاص آیات قدرت کا مشاہدہ کرانے ہی کے لئے امتیازی حیثیت سے بلایا گیا ، اس وقت تو حق تعالیٰ کی زیارت اس عام ضابطہ سے بھی مستثنیٰ ہے کہ اس وقت آپﷺ اس عالم دنیا میں نہیں ہیں ۔ کیا آپ ﷺ نے معراج کے موقع پر اللہ  تعالیٰ کی زیارت کی ہے یا نہیں  ؟ اس معاملہ میں روایات حدیث مختلف اور آیات قرآن محتمل ہیں ، اسی لئے صحابہ و تابعین اور ائمہ دین میں یہ مسئلہ ہمیشہ زیر اختلاف ہی رہا ، ابن کثیر نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیارتِ حق سبحانہ و تعالیٰ کو ثابت فرماتے ہیں اور سلف صالحین کی ایک جماعت نے ان کا اتباع کیا ہے اور صحابہ و تابعین کی بہت سی جماعتوں نے اس سے اختلاف کیا ہے ۔  اور بعض حضرات اس میں  توقف اور سکوت اختیار کیا ہے ، کیونکہ یہ مسئلہ کوئی عملی مسئلہ نہیں جس کے کسی ایک رخ پر عمل کرنا ناگزیر ہو ، بلکہ یہ مسئلہ عقیدہ کا ہے جس میں جب تک قطعی الثبوت دلائل نہ ہوں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور جب تک کسی امر میں قطعی بات نہ معلوم ہو، تو اس میں  حکم ثبوت اور توقف کا ہے ۔ اور اسی میں احتیاط ہے ۔ (معارف القرآن، سورۃ النجم:8/202) ۔

2-   حضرت موسی علیہ السلام  نے  دیکھنے کی درخواست کی تھی ، جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} [الأعراف: 143]

اور جب موسی ہمارے مقررہ وقت پر پہنچے اور ان کا رب ان سے ہم کلام ہوا تو وہ کہنے لگے : میرے پروردگار ! مجھے دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں۔ فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے ، البتہ پہاڑ کی طرف نظر اٹھاؤ، اس کے بعد اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ لو گے ۔پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسی بےہوش ہوکر گر پڑے۔ بعد میں جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے کہا: پاک ہے آپ کی ذات۔ میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور ( آپ کی اس بات پر کہ دنیا میں کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا) میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں تو ممکن نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بات کا مظاہرہ حضرت موسی علیہ السلام کو کرادیا کہ دنیا میں انسانوں کو تو کجا، پہاڑوں کو بھی یہ طاقت نہیں دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرسکیں۔

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰؍جنوری ؍۲۰۱۷ء