17 Dec, 2017 | 28 Rabiul Awal, 1439 AH

کیا مراقبہ بدعت ہے؟؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کریں

کیا مراقبہ بدعت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کریں۔

الجواب حامدا ومصلیا

مراقبہ کی حقیقت  کسی مضمون کو سوچنا اور اسکو پیش نظر رکھنا ہے یہ بدعت نہیں ہے۔ تصوف کی اصطلاح میں  مراقبہ کہتے ہیں ‘‘اللہ تعالی سے لو لگا کر بیٹھنے کو’’۔   اس کی تعلیم اہل تصوف کے ہاں معروف و مشہور ہے۔

مراقبہ بدعت نہیں ہے،  بلکہ اس کا ثبوت   قران وحدیث میں موجود ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشادہے:

{ وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ } [الأعراف: 205]

 اور اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی ، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ اور زبان سے بھی ، آواز بہت بلند کیے بغیر! اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

معارف القرآن میں حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کے تین طریقے حاصل ہوئے، ایک یہ کہ صرف ذکر قلبی یعنی معانی قرآن اور معانی ذکر کے تصور اور تفکر پر اکتفاء کرے، زبان کو بالکل حرکت نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ زبان کو بھی حرکت دے مگر آواز بلند نہ ہو جس کو دوسرے آدمی سن سکیں، یہ دونوں طریقے ذکر کے ارشاد ربانی (آیت) "وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ" میں داخل ہیں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ استحضار قلب اور دھیان کے ساتھ زبان کی حرکت بھی ہو اور آواز بھی، مگر اس طریق کے لئے ادب یہ ہے کہ آواز کو زیادہ بلند نہ کرے، متوسط حد سے آگے نہ بڑھائے، یہ طریقہ ارشاد قرآنی آیت "وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ" میں تلقین فرمایا گیا ہے، قرآن کریم کی ایک دوسرے آیت نے اس کی مزید وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے،(آیت)"ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا"  اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ اپنی قرأت میں نہ زیادہ جہر کیا کریں اور نہ بالکل اخفاء بلکہ جہر اور اخفاء کے درمیانی کیفیت رکھا کریں ۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قلتُ : يا رسول اللّه ، فما كانَتْ صحفُ ابراھیم ومُوسى ؟ قال : «كانت عبرا كلُّهَا : عَجِبْتُ لمن أَيْقَنَ بالموتِ ، ثم يفرحُ ، عجبتُ لمن أيقن بالنَّارِ ثم کیف يضحك ، عجبتُ لمن رأَى الدنيا وتَقَلُّبَها بأهلها ثم يطمئن الیھا، عجبت لِمَنْ أيْقَنَ بالقَدَرِ ثم يَنصبُ ، عجبتُ لمن أيْقَنَ بالحساب،ثم لا يعمل».

ترجمہ: (حضرت )ابو ذر غفاری (رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ  حضرت ابراھیم اورحضرت  موسیٰ علیہما السلا م  کے صحیفوں   میں کیا  مضامین تھے ؟آپ نے فرمایا  :وہ سب نصائح تھیں  جن میں سے بعض  یہ ہیں  کہ میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں  جو موت کا یقین رکھتا ہےاور پھر خوش ہوتا ہے، میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں  جودوزخ کا یقین رکھتا ہے پھر کیسے ہنستا ہے؟ میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں  جودنیا کو اور اہل ِ دنیا کے ساتھ  اُسکے انقلابات کو دیکھتا ہے ، پھر اُس میں جی لگاتا ہے،میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں  جوتقدیر پر یقین رکھتا ہے(اور جانتا ہے رزقِ مقدر ملے گااور)پھر (طلب ِرزق  میں مبالغہ کے ساتھ ) مشقت کرتا ہے ،میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں  جوحساب کا یقین رکھتا ہوپھر(نیک) عمل نہ کرتا ہو۔

 کیونکہ  حدیث  میں   مذکورہ امور کو پیش نظر رکھے بغیر ان امور کے یقین پرثمرات مرتب ہونا عادتاً مشکل ہے اور یہی حاصل  مراقبہ کاہے ۔(ماخذہ: التکشف عن مہمات التصوف :۲۹۱)

لما فی إحياء علوم الدين - (ج 4 / ص 398):

 أعلم أن حقيقة المراقبة هي ملاحظة الرقيب والصراف الهم إليه فمن احترز من أمر من الأمور بسبب غيره يقال أنه يراقب فلانا ويراعى جانبه ويعنى بهذه المراقبة حالة للقلب يثمرها نوع من المعرفة وتثمر تلك الحالة أعمالا في الجوارح وفي القلب. أما الحالة فهي مراعاة القلب للرقيب واشتغاله به والتفاته إليه وملاحظتهإياه وانصرافه إليه.

     واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۴؍شوال المکرم؍۱۴۳۸ھ

    ۹؍جولائی؍۲۰۱۷ء