22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت اگرکسی کے لئے روحانی ہدیہ کے طور پر قرآن پاک کا ختم پڑھیں اور ان پڑھنے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہوں جن کو تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا تو کیا وہ ختم قابل قبول نہیں ہوگا ؟ ۲جنھیں تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا وہ ختم قرآن میں حصہ نہیں لے سکتے؟ جزاکم اللہ خیراً کثیرا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

1-  حضرت اگرکسی کے لئے روحانی ہدیہ کے طور پر قرآن پاک کا ختم پڑھیں اور ان پڑھنے والوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہوں جن کو تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا تو کیا وہ ختم قابل قبول نہیں ہوگا ؟

2-   جنھیں تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا وہ ختم قرآن میں حصہ نہیں لے سکتے؟ جزاکم اللہ خیراً کثیرا

الجواب حامدا ومصلیا

1-   قرآن پاک کی تلاوت چاہے انفرادی طور پر ہو یا کسی جگہ اکٹھے ہوکر دونوں طرح صحیح اور مستحسن ہے۔ تلاوتِ قرآن کی اصل غایت تو رضائے الٰہی ہے؛ لیکن دوسرے مقاصد خیر کے لیے بھی قرآن کریم کا پڑھنا احادیث وآثار سے ثابت ہے؛ چنانچہ ایصال ثواب کے لیے جو ایک شرعی مقصد ہے، قرآن کریم کا پڑھنا خیرالقرون کے زمانہ سے جاری اور صحابہٴ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

« اقرءوا (يس) على موتاكم » سنن أبى داود.

سورت ‘‘يس’’  کو  مُردوں پر پڑھا کرو

 اس لیے میت کے لیے یٰسین شریف پڑھنا اور پڑھوانا دونوں درست ہے۔ البتہ اس میں چند باتوں کا  لحاظ رکھنا ضروری ہے:

(۱) قرآن پڑھنے یا پڑھوانے پراجرت مقرر نہ کی جائے اورنہ اجرت لی جائے۔ بہت سے علاقہ میں قرآن خوانی کرانے والے حافظ وغیرہ سے کم یا زیادہ پڑھنے پر معاوضہ کی پیش کش کرتے ہیں اور کبھی پڑھنے والے خود ہی معاوضہ طے کرتے ہیں اور بعض مرتبہ بغیر طے کیے ہدیہ کے نام پر دیا جاتا ہے؛ چونکہ قرآن خوانی کرانے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ دینا ہوگا اور پڑھنے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ ضرور ملے گا؛ اس لیے یہ نذرانہ (ہدیہ) بھی جسے مجلس کے بعد پیش کرنے کا رواج ہے اجرت کے مشابہ ہے؛ لہٰذا یہ سب صورت ناجائز ہے اور اس طرح پڑھنے پر اجر وثواب نہیں ملتا ہے، تو ایصال ثواب کیسے ہوگا؟

(۲) قرآن خوانی میں شرکت کرنا برادری مروت کے دباؤ یا بدنامی کے ڈر سے نہ ہو اسی طرح قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر کوئی طعن وملامت نہ کیا جائے۔ قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے عموماً برادری مروت کی وجہ سے بیٹھتے ہیں، کبھی قرآن خوانی کرانے والوں کے طعن وملامت سے بچنے کے لیے شریک ہوتے ہیں، ایسی قرآن خوانی سے تو بہتر یہ ہے کہ کسی غریب ومسکین اور مستحق کی حاجت ضروریہ پوری کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جائے۔

(۳) انتقال کے بعد قرآن خوانی کے لیے دنوں کی تخصیص نہ ہو، جیسے تیسرے دن اور دسویں دن میں قرآن خوانی کرنا پھر چالیسویں دن میں کرنا پھر سال پورا ہونے پرکرنا۔ عوام کے نزدیک یہ تیجہ، چہلم اور برسی وغیرہ ایسے متعین ہیں کہ ذرا بھی اس میں خلاف نہیں کیاجاتا، اسی طرح قرآن خوانی کے لیے تاریخ متعین نہ ہو مثلاً ۲۷ویں رجب، ۱۵ویں شعبان، دسویں محرم، ۱۲ویں ربیع الاوّل وغیرہ۔ اگر دن یا تاریخ کے التزام کے ساتھ قرآن خوانی کی جاتی ہے تو پھر یہ شرع کے خلاف ہے، اس میں شرکت ممنوع ہے؛ بلکہ اسے بند کرنے کی سعی کی جائے۔

(۴) خاص ہیئت کے ساتھ، خاص سورتیں اور خاص آیتوں کے پڑھنے کو ضروری قرار نہ دیا جائے جیسے کھانا سامنے رکھ کر چاروں قل اور پنج آیات پڑھ کر ایصال ثواب کرنا؛ کیونکہ ثواب کا پہنچنا اس طریقہ پر موقوف نہیں ہے، اگر اس طرح کیا جائے گا تو یہ طریقہ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے قابل ترک ہوگا۔

(۵) مجلس قرآن خوانی کے بعد شریک ہونے والوں کو کھلانا یا پلانا یا شیرینی تقسیم کرنے کا التزام نہ ہو۔ عام طور سے قرآن خوانی کے بعد کم از کم شیرینی (یعنی کوئی بھی میٹھی چیز پھل یا مٹھائی یا نان خطائی وغیرہ) تقسیم کرنے کو لازم سمجھتے ہیں اور بعض مرتبہ شریک ہونے والے اگر شیرینی تقسیم نہ کی جائے تو طنز کرتے ہیں، یہ دونوں صورتیں غلط ہیں اور قابل اصلاح ہیں۔

(۶) قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے کا مقصد شہرت وتفاخر یا دنیوی جاہ ومنصب کاحصول ہے یا قرآن پڑھوانے والا خود ہی شہرت وتفاخر کے لیے کررہاہے تو یہ بھی جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں دونوں فریق قابل موٴاخذہ ہیں ثواب تو کہاں ملے گا؟

(۷) قرآن  کریم صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا جائے۔

2-    ایسے لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں، جو قاری  اور اچھی تجوید کے ساتھ تو نہیں  پڑھتے ، لیکن قرآن کریم مناسب   طریقہ سے پڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے قاری   اور تجوید کے ساتھ پڑھنے والوں کا ہونا ضروری نہیں ۔

فی حاشية ابن عابدين (2/ 243)

مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له  تنبيه صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية

بل في زكاة التاترخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيءا ه. هو مذهب أهل السنة والجماعة لكن استثنى مالك والشافعي العبادات البدنية المحضة كالصلاة والتلاوة فلا يصل ثوابها إلى الميت عندهما بخلاف غيرها كالصدقة والحج . وخالف المعتزلة في الكل وتمامه في فتح القدير : أقول ما مر عن الشافعي هو المشهور عنه والذي حرره المتأخرون من الشافعية وصول القراءة للميت إن كانت بحضرته أو دعي له عقبها ولو غائبا لأن محل القراءة تنزل الرحمة والبركة والدعاء عقبها أرجى للقبول ومقتضاه أن المراد انتفاع الميت بالقراءة لا حصول ثوابها له ولهذا اختاروا في الدعاء اللهم أوصل مثل ثواب ما قرأته لفلان وأما عندنا فالواصل إليه نفس الثواب . وفي البحر من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع ثم قال وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا . والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره لإطلاق كلامهم وأنه لا فرق بين الفرض والنفل . وفي جامع الفتاوى وقيل لا يجوز في الفرائض. وفي كتاب الروح للحافظ أبي عبد الله الدمشقي الحنبلي الشهير بابن قيم الجوزية ما حاصله أنه اختلف في إهداء الثواب إلى الحي فقيل يصحح لإطلاق قول أحمد يفصل الخير ويجعل نصفه لأبيه أو أمه وقيل لا لكونه غير محتاج لأنه يمكنه العمل بنفسه  وكذا  اختلف في اشتراط نية ذلك عند الفعل فقيل لا لكن الثواب له فله التبرع به وإهداؤه لمن أراد كإهداء شيء من ماله وقيل نعم لأنه إذا وقع له لا يقبل انتقاله عنه وهو الأولى. وعلى القول الأول لا يصح إهداء الواجبات لأن العامل ينوي القربة بها عن نفسه، وعلى الثاني يصح وتجزى عن الفاعل، وقد نقل عن جماعة أنهم جعلوا ثواب أعمالهم للمسلمين وقالوا نلقى الله تعالى بالفقر والإفلاس والشريعة لا تمنع من ذلك، ولا يشترط في الوصول أن يهديه بلفظه كما لو أعطى فقيرا بنية الزكاة لأن السنة لم تشترط ذلك في حديث الحج عن الغير ونحوه نعم إذا فعله لنفسه ثم نوى جعل ثوابه لغيره لم يكف كما لو نوى أن يهب أو يعتق أو يتصدق ويصح إهداء نصف الثواب أو ربعه كما نص عليه أحمد ولا مانع منه

 ويوضحه أنه لو أهدى الكل إلى أربعة يحصل لكل منهم ربعه فكذا لو أهدى الربع لواحد وأبقى الباقي لنفسه اه ملخصا.

     واللہ اعلم بالصواب 

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۷؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۱۵؍اپریل؍۲۰۱۷ء