25 Apr, 2018 | 9 Syaaban, 1439 AH

Jin zewarat ki zaqath nikalni hoti hai, us ka kaya tariqa hai? Agar yaad na ho ke ye zewar kab lia tha, ya jab lia tha us waqat se le kar ab tak darmiyan main jitnay saal guzray han, us main se chand salon ki zaqath tou ada ki ho or chand ki nahi tou is surat main kaya tariqa kar hai? JazakAllah

جن زیورات کی زکوٰۃ نکالنی ہوتی ہے ،اس کا کیا طریقہ ہے ؟اگر یاد نہ ہو کہ یہ زیور کب لیا تھا ،یا جب لیا تھا اس وقت سے لے کر اب تک درمیان میں جتنے سال گزرے ہیں اس میں سے چند سالوں کی زکوٰۃ تو اداء کی ہو اور چند کی نہیں تو اس صورت میں کیا طریقہ کار ہے؟جزاک اللہ

الجواب حامدا ومصلیا 

زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سےایک فریضہ ہے۔ اگر کوئی کسی وجہ سےکسی سال ، کئی سال  زکوٰۃ نہ نکال سکے تو بعد میں اس پر گذشتہ سالوں  کی زکوٰۃ نکالنا ضروری  ہوتاہے۔  اورسب سے پہلے جس دن کسی  کی ملکیت میں نصاب آجاتاہے، تو ٹھیک  ایک سال بعد قمری تاریخ کے اعتبار سے اس مہینے کی اسی تاریخ   کو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے ۔

 کسی شخص پر کچھ سالوں سے   زکوٰۃ  واجب ہے اور اس کو واجب ہونی  کی مدت کا علم نہیں ،تو اس صورت میں  اس پر ضروری ہے کہ غور وفکر کرکے تخمینہ اور اندازہ لگا ئے اور جو  مدت  بنتی ہو اس کو  مقرر کرلے، اور اس حساب سے زکوٰۃ ادا کرے ۔

جہاں تک ممکن ہو اس بات کی کوشش کریں کہ اندازہ لگاتے وقت کم اندازہ نہ کریں، بلکہ کچھ زیادہ ہی لگالیں تاکہ زکوٰۃ کا کوئی ذرہ آپ کے ذمہ میں نہ رہے۔

 لہذا صورت مسؤلہ میں آپ پر کچھ سالوں سے   زکوٰۃ  واجب ہے اور آپ کو واجب ہونی  کی مدت کا علم نہیں ،تو اس صورت میں  آپ غور وفکر کرکے تخمینہ اور اندازہ لگا ئیں اور جو  مدت  بنتی ہو اس کو  مقرر کرلیں، اور اس حساب سے زکوٰۃ ادا کریں ۔

جہاں تک ممکن ہو اس بات کی کوشش کریں کہ اندازہ لگاتے وقت کم اندازہ نہ کریں، بلکہ کچھ زیادہ ہی لگالیں تاکہ زکوٰۃ کا کوئی ذرہ آپ کے ذمہ میں نہ رہے۔

الدر المختار - (2 / 259)

( وسببه ) أي سبب افتراضها ( ملك نصاب حولي ) نسبه للحول لحولانه عليه ( تام ) بالرفع صفة ملك خرج مال المكاتب... ( فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد ) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد ولو كفالة أو مؤجلا ولو صداق زوجته المؤجل للفراق... ( و ) فارغ ( عن حاجته الأصلية ) لأن المشغول بها كالمعدوم... ( نام لو تقديرا ) بالقدر على الاستنماء ولو بنائبه

حاشية ابن عابدين - (2 / 259)

قوله ( ملك نصاب ) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافا للشافعي بدائع

 ولا فيما دون النصاب.

  واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ