21 Oct, 2017 | 30 Muharram, 1439 AH

اسلام علیکم حضرت میں کینیڈا میں رھتا ھوں۔ ایک کاروبار کرنے کے لیے سرماے کی ضرورت ہے اور یہاں قرضہ سود کے بغیر نہی ملتا۔ کیا میں کینیڈا میں سود پر قرضہ لے سکتا ہوں یا نہی

السلام علیکم حضرت میں کینیڈا میں رھتا ھوں۔ ایک کاروبار کرنے کے لیے سرماے کی ضرورت ہے اور یہاں قرضہ سود کے بغیر نہی ملتا۔ کیا میں کینیڈا میں سود پر قرضہ لے سکتا ہوں یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

قرآن کریم کی نصوص اور احادیث مبارکہ کی تصریحات میں سود کالین دین ہر جگہ  حرام قرار دیا گیا ہے، اس میں  مسلم ملک،  غیر مسلم ملک  میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے جمہور ائمّہ کا مسلک یہی ہے کہ غیر مسلم ملک میں بھی کافرکے ساتھ سودی لین دین نا جائز ہے اور فتویٰ بھی اسی پر ہے ،لہذا کافر ملکوں میں بھی سود پر قرض لینے سے بچنالازم ہے۔

قال الله تعالیٰ:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" (البقرة: 278، 279)

فی فقه البیوع: 2/770)

الربافی دارالحرب

جمهور الفقهاء علی أن دار الاسلام و دار الحرب سواء فی حرمة الربا. ولایجوز لمسلم أن یرابی کافرا حربیا کما لايجوز له أن یرابی مسلما. وهو قول مالك والشافعی وأحمد وأبی یوسف رحمهم الله.... ثم إن الشیخ اشرف علی التهانوی رحمه الله راجع المسئلة فی رسالة أخری، ورجح مذهب  الجمهور علی أساس قوۃ الدلیل، وذهب إلی أن مذهب الجمهور هو الراجح والمتعین للإفتاء فی زماننا.

   واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

  دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍ذیقعدہ؍۱۴۳۸ھ

                    ۱۹؍اگست؍۲۰۱۷ء