16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

Assalam o alikum Hazrat mera sawal ye ha k ajkal pakistan main kahin b job k lye jain to hum sy kuch paisay wasool kye jatay han . Agr inkar kya jaye to wo seat kisi dosray ko dy di jati ha agarchay k hamara ka merit b doosron sy ziada hota ha or us job pr hamara haq b phlay hota ha Ye masla yr jaga pesh a raha ha . Please rehnumai farmaiye k kya kyea jaye Mazeed ye k kya is tarah job hasil krnay k baad kamaya gy paisay halal hn gy

السلام علیکم !

آج کل پاکستان میں کہیں بھی نوکری کے حصول  کے لیے جائیں تو ہم  سے کچھ پیسے وصول کیے جاتے ہیں ۔ اگر انکا ر کردیں تو  سیٹ کسی دوسرے کو دے دی جاتی ہے، اگرچہ وہ  ہم سے میرٹ میں کم ہو،  جبکہ قابلیت کے اعتبار سے وہ ہمارا حق ہے۔ او  ر یہ مسئلہ ہر جگہ پیش آرہا ہے، اور ساتھ  یہ بھی بتلائیں کہ رشوت دینے کے بعد تنخواہ حلال ہوگی  یا نہیں؟ یہ بھی یاد رہے کہ یہ پیسے  بطور رشوت  کے لیے جاتے ہیں۔

الجواب حامد اومصلیا

عام حالات میں رشوت دینا اور لینا دونوں ناجائز اور حرام ہیں، حدیث شریف میں  رشوت دینے اور لینے والے کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ لہذا جہاں تک ممکن ہو رشوت نہ دی جائے، اور جائز راستے اختیار کیے جائیں، تاہم اگر آپ مطلوبہ ملازمت کے لیے ملازمت کے شرائط کے مطابق  اس کے اہل ہیں، اور اس کے تقاضوں کے مطابق آپ کے پاس ضروری اور صحیح کاغذات بھی  موجود ہیں،  جن کی بنیا د پر  آپ کو ملازمت دینا افسران بالا کا فرض بنتا ہے، مگر رشوت لیے بغیر ملازمت پر وہ تقرر نہ کرتے ہوں، اور بلاوجہ حقدار کو اس کے جائزحق سے محروم  کرتے ہوں، اور آپ  کو اس  ملازمت کے علاوہ فی الحال حلال روزی  کا اور کوئی جائز ذریعہ  بھی آسانی سے میسر نہ ہو، تو  ایسی شدید مجبوری کی صورت میں مطلوبہ ملازمت کے حصول کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے، اور اس ملازمت کی تنخواہ بھی حلال ہوگی،   البتہ ایسے حالات  میں بھی رشوت لینے  والا بہر حال گنہگار ہوگا، اور اس کے لیے  یہ مال حرام ہوگا۔

فی سنن الترمذي : باب ما جاء في الراشي والمرتشي في الحكم:

عن عبد الله بن عمرو قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي والمرتشي

وفی حاشية ابن عابدين - (5/ 362)

ثم الرشوة أربعة أقسام منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة ، الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق لأنه واجب عليه، الثالث أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط.

وفی شرح فتح القدير - (7/ 254)

ثم الرشوة أربعة أقسام منها ما هو حرام على الاخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة ثم لا يصير قاضيا الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك حرام من الجانبين ثم لا ينفذ قضاؤه في تلك الواقعة التي ارتشى فيها سواء كان بحق أو بباطل أما في الحق فلأنه واجب عليه فلا يحل أخذ المال عليه... الثالث أخذ المال ليسوى أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ لا الدافع.

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۴؍شعبان المعظم؍۱۴۳۸ھ

۲۱؍مئی؍۲۰۱۷ء