22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

Asslam o Alaikum!! I want to ask about insurance. Is it allowed in islam?? As State life in Pakistsn, they invest money in property and shares business and they dont give fixed amount. Their amount at end varies according to profit loss. So, what is right way in islam ???

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

مجھے انشورینس کے متعلق پوچھنا ہے۔ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟ جیسا کہ اسٹیٹ لائف کا پاکستان میں کاروبار ہے۔ وہ رقم لگاتے ہیں کاروبار میں اور آپ کو منافع تعیین کرکے نہیں دیتے بلکہ نفع نقصان کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ کیا               ان کا نفع جایز ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

مروجہ انشورنس  کمپنیوں کا کاروبار سود اور قمار (جوا) وغیرہ پر مبنی ہوتاہے۔ ۔  لہذا انشورنس  اور اس پر ملنے والے منافع حرام ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔البتہ علماء کرام نے انشورنس کا شرعی متبادل "تکافل" کے نام سے پیش کیا ہے ،جس کے تحت متعدد تکافل کمپنیاں مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی کام کررہی ہیں، ان سے معاملات کرنا جائز ہے۔

قال الله تعالي:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُرِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة : 90]

 واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۶؍رجب المرجب؍۱۴۳۸ھ

۲۴؍اپریل؍۲۰۱۷ء