22 Oct, 2017 | 1 Safar, 1439 AH

AoA wr wb! Kuch arsa pehly tak men job karta tha or apnay walid ko sary pesy day deta tha or jo walid sahab mjhy dety thy pocket money us men say men kuch apni walida ko or biwi ko deta tha or kuch garibon ko. Ub filhal men farig hon or meri koi job nahi to mene apni walida or biwi ko paisy dena band kar diy lakin garibon ko ubhi bhi deta hon. (neyat meri ye thi k gareeb ziyada zaroorat mand hain isliy unko dety rehna chahiya) Meri walida ek din mjhy kehny lagen k mard ki kamai per sub say pehly usk waliden ka haq hay phir biwi bachon ka or phir garibon ka. Ye baat sun kar men confuse hon k mjhy kia karna chahiya aya garibon ko paisay dena band kar k ami ko dobara dena start kardon? Mjhy zaati tor per ubhi bhi lagta hay k gareeb ziyada zarorat mand hay walida ki nisab q k walida ki zarorat k chezain pori ho jati hain jub gareeb k zarorat diy hoy paison say pori hoti hay Kindly apni raey bata den.

سوال خلاصہ:

میں پہلے ملازمت کرتا تھا، اس وقت اپنی  ساری آمدن اپنے والد  کو دیتا تھا، پھر وہ مجھ کو اپنا جیب خرچ وغیرہ دیتے تھے، اور اس میں سے میں اپنی والدہ اور بیوی کو دیتا تھا، اور غریبوں کو بھی دیتا تھا، اب میری ملازمت نہیں رہی، تو میرے پاس جو پیسہ آتا ہے، اس میں سے صرف غریبوں کو دیتا ہوں،  والدہ اور بیوی کو نہیں دیتا۔ میری والدہ اور بیوی کہتی ہیں کہ ہمارا حق مقدم ہے، اور میں کہتا ہوں کہ نہیں، غریبوں کا حق مقدم ہے، کیونکہ ہمارا گذارہ ہوجاتا ہے، والد صاحب کی آمدن کی وجہ سے، اور ان کا نہیں ہوتا۔ لہذا کیا والدہ اور بیوی کا حق مقدم ہے یا غریبوں کا ؟ مہربانی فرماکر اس بارے رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامدا ومصلیا

غریبوں کی مدد کرنا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس کی وجہ سے والدین اور بیوی  بچوں  پر تنگی کرنا بھی جائز نہیں۔  شریعت نے  اپنے والدین ، بیوی، بچوں اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب ، اجنبی پر خرچ کرنے سے زیادہ رکھا ہے۔ بیوی  بچوں، اور  والدین کا  حق مقدم رکھا ہے۔ چناچہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

"يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ "

(البقرة: ۲۱۵)

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ( اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہئے ، اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔

یعنی  جو مال بھی خرچ کرنا چاہو، تو سب سے پہلے ماں باپ کی خدمت میں صرف کرو ، جو تمہارے وجود ظاہری کاسبب بنے اور جس شفقت اور محبت سے تم کو پالا ہے تم اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کرسکتے۔ اولاد اگرچہ والدین کی مالی اور بدنی خدمت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھارکھے لیکن والدین کی شفقت اور عنایت اور نظر محبت کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرسکتی اور والدین کے قرابت داروں میں خرچ کرو تاکہ صدقہ اور صلہ رحمی دونوں جمع ہوجائیں اور رشتہ داروں کے بعد یتیموں پر خرچ کرو کہ وہ  باپ نہ ہونے کی وجہ سے خود کمانے کے قابل نہیں اور ان کے بعد عام محتاجوں پر خرچ کرو اور عام محتاجوں کے بعد مسافروں پر خرچ کرو جو وطن اور عزیز اور اقارب سے دور ہونے کی وجہ سے بمنزلہ محتاج اور فقیر کے ہو گئے ۔

لہذا  خرچ میں آپ اپنے والدہ ، بیوی بچوں کو مقدم   کریں، اور اس سے کچھ بچ جائے تو  وہ دوسرے مساکین کو دے دیا کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ