16 Dec, 2017 | 27 Rabiul Awal, 1439 AH

I am working as research scientist in King Abdulaziz University, Jeddah. My job responsibilities include establishing, bringing projects funding, publishing research articles and training young scientists. Last years I had too much work and was even performing my duties on weekends. This years because of low funding from the authorities I have very little work to do, but still my salary and duty hours are the same (8:00am to 4:00pm). Now my question is when I have nothing to do at my office I come little later in the morning (10:00am) and go earlier in afternoon (2:30pm), however, my actual duties are not pending to me. I want to know whether 1. Giving lesser time to office will make my salary Haram? or not? 2. If I have nothing to do at my office should I use my office computer for some other activities like learning Arabic Language, reading news or some other Deeni books or not?

میں گنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں سائنسی ریسرچ کے طور پر کام کرہا ہوں.... آج کل  کام تھوڑا ہوتا ہے، جبکہ میری تنخواہ اور ڈیوٹی سابقہ ترتیب سے  ہے ( 8 تا4 بجے) میرا سوال یہ ہے کہ دفتر میں کوئی کام نہیں ہوتا ، اس  لیے صبح 10 بجے آتاہوں، اور دوپہر 2:30 بجے چلاجاتاہوں۔ اب میں جاننا چاہتا ہوں کہ کم وقت دینی کی وجہ سے میری تنخواہ حرام ہوگی یا نہیں

دوسرا سوال یہ ہے کہ کہ کوئی کام نہیں ہوتا ، کیا میں دفتر کے کمپیوٹر کو دوسرے کاموں میں استعمال کرسکتا ہوں، جیساکہ عربی سیکھنا اور اخبار پڑھنا، یا دوسری کتابیں پڑھنا۔

الجواب حامدا ومصلیا

گورنمنٹ کا ملازم ، شرعاً  وہ گورنمنٹ کا اجیر خاص ہے،یعنی ، وہ ملازم ہے  کہ جس کا کچھ وقت کسی  ادارے کے لیے مخصوص ہو۔اجیر خاص  کے لیے حکم یہ ہے کہ  جتنا وقت ملازمت کے لئے طے ہے ، شروع وقت  سے لیکر آخر تک پورا  وقت  دینا اس پر ضروری ہے،خواہ اس میں فارغ ہی بیٹھنا پڑے،  اور ملازمت کے اوقات میں ایسا کام نہ کرے جو ملازمت کے منافی ہو۔ البتہ اس فارغ وقت میں اخبار یا کتاب کا مطالعہ کرسکتا ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ میں  حکومتی ادارے کی طرف سےجتنا وقت ملازمت کے لئے طے ہے ، شروع وقت  سے لیکر آخر تک پورا وقت اس کو  دینا آپ پر لازم ہے ، خواہ کام تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ اور کم وقت دینےکی صورت میں  آپ کیلئے حکومت سے   اس وقت کی تنخواہ لینا جائز نہیں ہوگا ۔

دفتر کے سامان (کمپیوٹر وغیرہ) کو اپنےذاتی  کام میں استعمال  کرنا درست نہیں۔

الدر المختار - (ج 6 / ص 69)

الأجير ( الخاص ) ويسمى أجير واحد ( وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو ) شهرا ( لرعي الغنم ) المسمى بأجر مسمى.

المجلة - (ج 1 / ص 82)

 الأجير الخاص يستحق الأجرة  إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشترط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع من العمل وإذا امتنع فلا يستحق الأجرة.

النتف في الفتاوى - (ج 2 / ص 558)

والاجارة لاتخلو من وجهين اما ان تقع على وقت معلوم او على عمل معلوم فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل ........واذا وقعت على وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الاجرة.

وفی حاشية ابن عابدين - (ج 6 / ص 70)

مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة  قوله ( وليس للخاص أن لغيره ) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التاترخانية وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة. وفي فتاوى سمرقند وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة ويسقط من الأجر بقدر اشتغاله إن كان بعيدا وإن قريبا لم يحط بشيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجر.

  واللہ اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ،معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۹؍صفر ؍۱۴۳۷ھ

۳۰؍نومبر ؍۲۰۱۶ء