17 Nov, 2017 | 27 Safar, 1439 AH

Misc. Fiqh

February 28, 2017

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ: میں ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھاتا ہوں، گورنمنٹ کی طرف سے سکول کے بچوں کو کتابیں مفت مہیا کی جاتی ہیں سکول کی طرف سے اساتذہ داخل شدہ بچوں کی تعداد لکھ کر اپنے مرکز میں جمع کرواتے ہیں اور پھر مرکز اس تعداد کے مطابق کتابیں سکول کو مہیا کر دیتا ہے جو بچوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تعداد بھیج دی جاتی ہے کتابیں آ جاتی ہیں اور ساتھ ہی کچھ بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں یا سکول تو نہیں چھوڑتے لیکن سارا سال سکول حاضر نہیں آتے اور کتابیں پڑی رہتی ہیں اور اگلا سال آنے پر پھر یہی سلسلہ ہوتا ہے کہ نئی کتابیں آ جاتی ہیں۔ کیا ہم ان پڑی ہوئی کتابوں کو کسی اور بچے کو دے سکتے ہیں جو گورنمنٹ سکول کا نہ ہو؟ لیکن غریب ہے؟ یا گورنمنٹ سکول کا کوئی بچہ جو اپنی گم کر لے تو اسے دوسری دفعہ دے سکتے ہیں؟ یا کسی دوسرے گورنمنٹ سکول کے بچے کو دے سکتے ہیں؟؟ یاد رہے ان کتابوں کی واپسی کوئی سکول نہیں کرتا اور اگر نہ دیں تو پڑی ضائع ہو جائیں گی۔ کیونکہ بعض دفعہ سلیبس تبدیل ہو جاتا ہے اور سال بعد نئی کتابیں بھی لازمی آتی ہیں۔?

read more